گڑھ موڑ – تعارف

گڑھ موڑ (انگریزی: Garh More) پاکستان کا ایک آباد (کل آبادی15000 تقریبا) مقام جو پنجاب، پاکستان کے ضلع جھنگ میں واقع ہے گڑھ موڑ دریائے چناب کے کنارے آباد وسطی پنجاب، پاکستان کا شہر ہے۔گڑھ موڑ ٹاؤن کمیٹی گڑھ مہاراجہ کا حصہ ہے۔ یہ ایک بڑا کاروباری مرکز ہونے کی وجہ سے تحصیل احمد پور سیال میں سب سے زیادہ محصول ادا کرنے والا علاقہ ہے۔صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار منصور ملنگی کا تعلق بھی گڑھ موڑ سے تھا. گڑھ موڑ کے مشرق میں شورکوٹ (40 کلومیٹر) مغرب میں لیہ (85 کلو میٹر) شمال میں جھنگ (75 کلو میٹر) اور جنوب میں ملتان (120 کلو میٹر) واقع ہے

محلے -اہم مقامات

1. محلہ نواز ش نگر 2. بھٹو نگر 3.گلشن ٹاؤن 4. مدینہ ٹاؤن 5.شفقت کالونی
6.جند وڈی کالونی 7.محلہ رضا آباد 8. محلہ عید گاہ 9.محلہ منصور ملنگی 10 .چمن آباد 11.نور شاہ ٹاؤن

آب و ہوا

گڑھ موڑ کی آب و ہوا شدید نوعیت کی ہے، جس کا مطلب سردیوں میں شدید سردی اور گرمیوں میں شدید گرمی ہے۔ موسم گرما، سرما کے مقابلہ میں زیادہ لمبا ہے اور گرمی کا عمومی درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے۔ اب تک زیادہ سے زیادہ درجہء حرارت 43 درجے سینٹی گریڈ تک دیکھا گیا ہے۔

اہم شخصیات

### **منصور ملنگی – سرائیکی اور پنجابی لوک موسیقی کا امر گلوکار**

**منصور ملنگی** پاکستان کے معروف سرائیکی اور پنجابی لوک گلوکار تھے، جنہوں نے اپنی پرسوز آواز، دیہاتی رنگ اور صوفیانہ گائیکی کے ذریعے عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے اپنی جگہ بنا لی۔ وہ ایک **عوامی گلوکار** تھے، جن کے گیت عام آدمی کی زندگی کے دکھ سکھ، محبت، ہجرت، اور ماں کی عظمت جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے تھے۔

## **پیدائش اور ابتدائی زندگی**
منصور ملنگی **1947 میں گڑھ موڑ، ضلع جھنگ، پنجاب، پاکستان** میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک **سادہ دیہاتی پس منظر** سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کا اصل نام **منصور احمد** تھا۔

💠 **گڑھ موڑ** ایک ایسا علاقہ تھا جہاں صوفی روایت، دیہاتی ثقافت، اور موسیقی کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ اسی ماحول میں منصور ملنگی کا **موسیقی سے لگاؤ** بڑھا۔ ان کے والدین عام دیہاتی لوگ تھے، جو زراعت سے وابستہ تھے۔

💠 **تعلیم:** منصور ملنگی کی باضابطہ تعلیم کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں، لیکن وہ روایتی دیہاتی ماحول میں پروان چڑھے اور موسیقی سے وابستگی ان کی اصل پہچان بنی۔

## **موسیقی میں سفر اور کامیابی**
🎵 **گائیکی کا آغاز**
منصور ملنگی کا موسیقی میں باقاعدہ سفر **1965** میں شروع ہوا۔ ابتدا میں وہ مختلف دیہاتی میلوں، عرسوں اور محافل میں گیت گاتے تھے۔

🎵 **پہلا مشہور گانا**
منصور ملنگی کی شہرت کا آغاز ان کے گانے **”اک پتر ماواں دا، بالی ویندا اے”** سے ہوا۔ اس گانے نے پورے پاکستان میں مقبولیت حاصل کی، کیونکہ اس میں **ماں کی محبت اور بیٹے کی جدائی** جیسے جذبات کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا تھا۔

💠 **ان کا اندازِ گائیکی منفرد تھا:**
– وہ ہمیشہ **سادہ مگر گہرے بولوں** پر مشتمل گیت گاتے تھے۔
– ان کی موسیقی میں **دیہاتی لوک رنگ، سرائیکی ثقافت اور صوفیانہ اثرات** واضح تھے۔
– ان کے گانے زیادہ تر **ہارمونیم، طبلہ، اور دُھل** جیسے روایتی آلات کے ساتھ گائے جاتے تھے۔
– وہ کسی بڑے موسیقی ادارے سے وابستہ نہیں تھے، لیکن پھر بھی ان کی عوامی مقبولیت بے حد زیادہ تھی۔

🎵 **مشہور گیت**
منصور ملنگی کے بے شمار گانے آج بھی مشہور ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1️⃣ **اک پتر ماواں دا، بالی ویندا اے** (مشہور ترین گیت، جو ہر سننے والے کے دل کو چھو لیتا ہے)
2️⃣ **میڈا عشق وی توں، میڈا یار وی توں**
3️⃣ **ساڈے ویہڑے آ میرا سجنہ**
4️⃣ **چن میرے مکھناں دا کیہ حال سناواں**
5️⃣ **ساڈے ساہواں نوں ہولا پہ جائے**

🎶 ان کے گیت زیادہ تر **محبت، ہجرت، جدائی، دیہاتی زندگی، اور صوفیانہ عشق** پر مبنی ہوتے تھے۔

## **منصور ملنگی کی عوامی مقبولیت**
📻 **ریڈیو پاکستان اور ٹی وی پر آمد**
منصور ملنگی نے زیادہ تر **ریڈیو پاکستان** کے ذریعے اپنی موسیقی کو عوام تک پہنچایا۔
🎤 وہ **پی ٹی وی** پر بھی آئے، لیکن ان کی اصل پہچان **لوک موسیقی کے میلوں اور دیہاتی اجتماعات** میں تھی۔
🎶 ان کے سامعین عام دیہاتی، مزدور، کسان اور صوفی مزاج رکھنے والے لوگ تھے۔

💠 **وہ عام لوگوں کے گلوکار تھے، ان کی گائیکی میں بناوٹ نہیں تھی، بلکہ اصلی جذبات شامل تھے۔**

💠 **دیہات کے میلوں اور عرسوں میں وہ ہمیشہ عوام کی خصوصی توجہ کا مرکز رہتے۔**

## **اعزازات اور پذیرائی**
🏆 **صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی**
🇵🇰 حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں **صدارتی ایوارڈ** سے نوازا۔

🏆 **عوامی مقبولیت**
وہ کسی بڑے میڈیا ہاؤس یا فلمی صنعت سے وابستہ نہیں تھے، لیکن پھر بھی ان کی شہرت پورے پاکستان میں تھی۔

🏆 **ثقافتی ورثہ**
آج بھی ان کے گانے پنجاب اور سرائیکی خطے کے ثقافتی ورثے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

## **آخری دن اور وفات**
😞 **2014 میں منصور ملنگی کی طبیعت خراب رہنے لگی۔**
😞 **8 دسمبر 2014** کو وہ **67 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔**
😞 ان کی تدفین **گڑھ موڑ، جھنگ** میں کی گئی، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے آسودہ خاک ہو گئے۔

💠 **ان کی وفات کے بعد بھی ان کی گائیکی کا جادو زندہ ہے۔**
💠 **آج بھی ان کے گانے سن کر لوگ ان کے سچے جذبات کو محسوس کرتے ہیں۔**

## **منصور ملنگی کی وراثت**
🎶 **پاکستان کے دیہاتی اور لوک موسیقی کے منظرنامے میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔**
🎶 **ان کے بیٹے بھی موسیقی سے وابستہ رہے، لیکن وہ مقبولیت حاصل نہ کر سکے جو منصور ملنگی کو ملی۔**
🎶 **ان کے گانے آج بھی پنجابی، سرائیکی اور لوک موسیقی کے عاشقوں کے دلوں میں بستے ہیں۔**

💠 **پاکستان میں لوک گائیکی کے دیگر بڑے ناموں جیسے کہ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، عالم لوہار، اور شوکت علی کے ساتھ ان کا نام بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔**

## **نتیجہ**
💡 **منصور ملنگی صرف ایک گلوکار نہیں تھے، بلکہ وہ ایک عوامی جذبے کی آواز تھے۔**
💡 **ان کے گانے سن کر دیہاتی زندگی، محبت، ہجرت، اور ماں کی عظمت کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔**
💡 **ان کی گائیکی کے ذریعے دیہاتوں کے اصل مسائل اور سچائی عوام تک پہنچتی تھی۔**

Fakhar Abbas Sial

Fakhar Abbas Sial

Advocate

Contact for All Legal Matters 03017224265

Shahid Mansoor Malangi

Shahid Mansoor Malangi

Singer

Mohallah Nawazish Nagar Garh More Mobile Number : 03006501275

Dr Hussain Ahmed Madni

Dr Hussain Ahmed Madni

Senior Veterinary Doctor

Mohallah Nawazish Nagar Garh More Mob : 03017220659

Mahar Ali irfan Sabana Sial

Mahar Ali irfan Sabana Sial

Ex-City Nazim

Shafqat Colony Garh More Mob : 03006505556

Naeem Azhar

Naeem Azhar

PS to Sahibzada Mehboob Sultan

Al Nadeem Photo Studio Cell : 0300 5557786

Saqlain Abbas Kharal

Saqlain Abbas Kharal

Chairman GArh More Citizen Movement & Social Worker

Call : 03035221412